تیرے ساتھ جو بیتے تھے پل، میں بھلا دوں کیسے
تیری خوشبو سے مہکتے گل، میں بھلا دوں کیسے
تو مجھے چھوڑ کے جانے کی ابھی جلدی نہ کر
تیرے انتظار میں گزرے کل، میں بھلا دوں کیسے
تیرے ہجر میں جو دل پہ قیامت سی رہی
وصل کی ساعتوں کی وہ ہلچل، میں بھلا دوں کیسے
تیرا رخ مثلِ مہِ تاباں، وہ گھنی زلفوں کی رات
تیری سبز آنکھوں کا وہ کاجل، میں بھلا دوں کیسے
جن سے چاہت ہو مجھے سارے زمانے سے زیادہ
ان کے خوابوں سے بندھا یہ دل، میں بھلا دوں کیسے
اب کسی صبر کی امید نہیں اے پیرؔ میرے
وہ سلگتے ہوئے جذبات، وہ بادل، میں بھلا دوں کیسے